نئی دہلی یکم مئی(آئی این ایس انڈیا) کانگریس پارٹی نے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ملک گیر لاک ڈاؤن کے دوران پھنسے ہوئے تارکین وطن مزدوروں کودوسری ریاستوں میں گھروں تک لے جانے کے لیے کنفیوژڈہے۔
کانگریس کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ تارکین وطن مزدوروں کو وطن واپس بھیجنے کے لیے وزارت داخلہ کااجازت نامہ ایک مذاق کی طرح ہے۔ حکومت جانتی ہی نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے مزدور ہیں۔ انہوں نے سوال اُٹھایا کہ تارکین وطن مزدوروں کی تعداد کا اندازہ لگائے بغیر، حکومت نے کیسے فیصلہ کیاہے کہ مزدور بسوں میں گھر جاسکتے ہیں۔انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ اس کام میں تین سال گزاریں گے؟ سنگھوی نے کہا کہ جب بیرون ملکوں میں پھنسے ہوئے افرادکوہوائی جہاز سے واپس لایا جاتا ہے توکیامزدوروں کے لیے ٹرینیں نہیں چلائی جاسکتی ہیں؟
کانگریس کے ترجمان سنگھوی نے کہا کہ بہار کا اندازہ ہے کہ 25 سے 27 لاکھ مزدور واپس آئیں گے، جبکہ راجستھان نے دو سے تین لاکھ افراد کا تخمینہ لگاتا ہے۔ اسی طرح گجرات سے بھی 7 سے 10 لاکھ کا تخمینہ لگایاگیا ہے۔ آسام میں 1 سے 5 لاکھ کا تخمینہ ہے اور اڈیشہ جیسی ریاست میں 10 لاکھ افراد کو واپس جانا ہے۔ کیرالہ اور پنجاب سے چار چار لاکھ افراد کی توقع کرتے ہیں۔ ایک دن میں اتر پردیش میں ایک لاکھ افراد نے اپنے ناموٓں کا ہیلپ لائن میں اندراج کرایا ہے۔ دہلی میں یہ تعداد 10 لاکھ سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر مرکزی حکومت کو مزدوروں کی تعداد کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں ہے۔ بغیر کسی اندازے کے یہ فیصلہ کیاگیاہے کہ وہ صرف بسوں میں جاسکتے ہیں، کیا اس میں 3 سال لگیں گے؟جب کہ آج ہی ٹرینوں سے لے جانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔
انہوں نے سوال کیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے 45 دن بعد، کیا حکومت یہ حل لائی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کوبے بس چھوڑ دیا گیا ہے اور انہیں بسوں اور ریاستوں پرانحصار کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو واپس لانے کے لیے بھی کام کرنا چاہیے لیکن مزدوروں کو اُن کے وطن کیسے پہنچایا جائے اُس پربھی اُتنی ہی توجہ دی جانی چاہئے۔